RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers

You opened the RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers page — a focused place to read the real previous year question paper for that subject and year. RBSE Solution keeps exam-year sets together so you can practise the same cycle your seniors faced.

Previous year papers reward patience: read instructions, note mark distribution, then attempt questions before peeking at solutions elsewhere on the site. This URL always loads the same free previous year papers content for Urdu Sahitya-SS-22-2016 (2016).

Use the details table to confirm class and year, then scroll to the paper images or PDF below. More subjects from 2016 are linked later on this page.

Paper details

Quick reference for this previous year papers page — confirm board, class, and year & subject before you study.

Board RBSE
Class Class 12th
Exam year 2016
Subject Urdu Sahitya-SS-22-2016
Resource type Previous Year Papers
Category RBSE Previous Year Question Papers
Website RBSE Solution

The table summarises this Previous Year Papers resource. Confirm RBSE, Class 12th, year 2016, and subject Urdu Sahitya-SS-22-2016 before studying.

RBSE Solution organises previous year papers so each URL carries chapter-specific guidance — better for students and for search engines than one generic paragraph for the whole class.

How to practise with this question paper

Stage one: read the Urdu Sahitya-SS-22-2016 question paper from 2016 without a timer and highlight command words — explain, prove, calculate, discuss. Stage two: attempt selected questions closed-book. Stage three: compare with solutions or teacher feedback.

Previous Year Papers work best when you log mistakes by topic, not only by question number. That log becomes your revision index before pre-boards.

RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016

Scroll through the Previous Year Papers pages for Urdu Sahitya-SS-22-2016 (2016).

RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers 0
https://rbsesolution.com
RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers 1
https://rbsesolution.com
RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers 2
https://rbsesolution.com
RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers 3
https://rbsesolution.com
RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers 4
https://rbsesolution.com
RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers 5
https://rbsesolution.com
RBSE Class 12th 2016 Urdu Sahitya-SS-22-2016 Previous Year Papers 6
https://rbsesolution.com

Rajasthan Board Class 12th Urdu Sahitya-SS-22-2016 2016 solved Previous Year Question Papers

नामांक Roll No.

No. of Questions - ]
No. of Printed Pages - 7

SENIOR SECONDARY EXAMINATION - 2016
URDU SAHITYA

Time : 3 Hours
Maximum Marks : 80

SS-22-Urdu Sah.


Page content could not be transcribed.

2016 – Urdu Sahitya (SS-22)

प्रश्न 1. निम्नलिखित में से किसी एक प्रश्न का उत्तर दीजिए।

  1. اردو زبان و ادب کی ابتدا و ارتقا پر روشنی ڈالیے۔
  2. اردو غزل کے فنی محاسن اور موضوعات پر ایک مضمون تحریر کیجیے۔

उत्तर (i): اردو زبان و ادب کی ابتدا و ارتقا کا آغاز برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے ہوا۔ یہ زبان مختلف بولیاں بولنے والوں کے باہمی اختلاط سے وجود میں آئی۔ ابتدا میں اسے 'ہندوی'، 'ریختہ' اور 'دکنی' کہا جاتا تھا۔ دکن میں بہمنی سلطنت کے دور میں اردو ادب کو فروغ ملا۔ شمالی ہند میں امیر خسرو نے اسے آگے بڑھایا۔ ولی دکنی کے بعد اردو شاعری میں انقلاب آیا۔ انیسویں صدی میں دہلی اور لکھنؤ اردو کے اہم مراکز بنے۔ غالب، میر، انیس اور دبیر جیسے شعرا نے اسے عروج بخشا۔ بیسویں صدی میں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت نے اردو ادب کو نئے موضوعات دیے۔ آج اردو پوری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

उत्तर (ii): اردو غزل کے فنی محاسن میں ردیف، قافیہ، مطلع، مقطع، تشبیہ، استعارہ اور علامت نگاری شامل ہیں۔ غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کے اہم موضوعات میں عشق و محبت، حسن و جمال، تصوف، فلسفہ، زندگی کی حقیقتیں، اور سماجی مسائل شامل ہیں۔ غزل میں جذبات کی شدت اور سادگی دونوں پائی جاتی ہیں۔ میر، غالب، مومن، داغ اور فراق جیسے شعرا نے غزل کو نئی جہتیں دیں۔

प्रश्न 2. निम्नलिखित में से किसी ایک سوال کا جواب دیجیے۔

  1. اردو ناول کے ارتقا پر ایک مضمون لکھیے۔
  2. اردو افسانے کی روایت اور اہم رجحانات پر روشنی ڈالیے۔

उत्तर (i): اردو ناول کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا۔ پہلا اردو ناول 'مراۃ العروس' (1869) تھا جسے ڈپٹی نذیر احمد نے لکھا۔ اس کے بعد 'فسانہ آزاد' (1880) اور 'ابن الوقت' جیسے ناول آئے۔ پریم چند نے 'گودان' اور 'بازار حسن' جیسے ناولوں سے اردو ناول کو حقیقت پسندی کی طرف موڑا۔ بیسویں صدی میں قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، اور انتظار حسین جیسے ادیبوں نے ناول کو نئے موضوعات دیے۔ جدید دور میں اردو ناول میں جنسیت، نفسیات، اور سیاسی مسائل پر بھی کام ہوا۔

उत्तर (ii): اردو افسانے کی روایت بیسویں صدی کے آغاز سے شروع ہوتی ہے۔ پہلا اردو افسانہ 'سودا' (1903) تھا جسے پریم چند نے لکھا۔ پریم چند کو اردو افسانے کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ ان کے بعد سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چندر، اور راجندر سنگھ بیدی جیسے افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کو فروغ دیا۔ اہم رجحانات میں حقیقت پسندی، ترقی پسندی، جدیدیت، اور علامت نگاری شامل ہیں۔ منٹو نے جنسیت اور نفسیات پر، جبکہ کرشن چندر نے سماجی مسائل پر لکھا۔

प्रश्न 3. निम्नलिखित में से किसी ایک کا جواب دیجیے۔

  1. اردو مرثیہ کی روایت اور اس کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔
  2. اردو قصیدے کی روایت اور اس کے اہم عناصر پر روشنی ڈالیے۔

उत्तर (i): اردو مرثیہ کی روایت دکن سے شروع ہوتی ہے۔ مرثیہ کربلا کے شہداء کی یاد میں لکھی جانے والی نظم ہے۔ اس کے اہم عناصر میں رثا (غم)، بکا (رونا)، اور مدح (تعریف) شامل ہیں۔ مرثیہ میں چھ بند ہوتے ہیں: چہرہ، سراپا، آمد، رجز، جنگ، اور شہادت۔ انیس اور دبیر اس صنف کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ انیس نے مرثیے کو فنی کمال تک پہنچایا۔

उत्तर (ii): اردو قصیدہ عربی اور فارسی سے آیا۔ یہ کسی کی تعریف میں لکھی جانے والی طویل نظم ہے۔ اس کے اہم عناصر میں تشبیب (عشق کے اشعار)، مدح (تعریف)، اور دعا شامل ہیں۔ قصیدے میں مبالغہ آرائی عام ہے۔ اردو کے مشہور قصیدہ نگاروں میں سودا، ذوق، اور غالب شامل ہیں۔ سودا کے قصیدے ہجو اور مدح دونوں میں مشہور ہیں۔

प्रश्न 4. निम्नलिखित میں سے کسی ایک کا جواب دیجیے۔

  1. اردو تنقید کی روایت اور اہم رجحانات پر روشنی ڈالیے۔
  2. اردو تحقیق کے اصول و ضوابط بیان کیجیے۔

उत्तर (i): اردو تنقید کی روایت انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوتی ہے۔ محمد حسین آزاد کو پہلا اردو تنقید نگار مانا جاتا ہے۔ ان کی کتاب 'آب حیات' اردو شاعری کی تاریخ اور تنقید پر ہے۔ بعد میں الطاف حسین حالی نے 'مقدمہ شعر و شاعری' لکھا۔ بیسویں صدی میں شبلی نعمانی، عبدالرحمن بجنوری، اور کلیم الدین احمد جیسے نقادوں نے تنقید کو فروغ دیا۔ اہم رجحانات میں تاریخی تنقید، نفسیاتی تنقید، اور ساختیاتی تنقید شامل ہیں۔

उत्तर (ii): اردو تحقیق کے اصولوں میں موضوع کا انتخاب، مواد کی تلاش، ذرائع کی تصدیق، اور تجزیہ شامل ہیں۔ تحقیق میں اصلی اور ثانوی ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اہم اصولوں میں معروضیت، دیانت داری، اور حوالہ جات کی درستگی شامل ہیں۔ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، اور عبدالسلام ندوی جیسے محققین نے اردو تحقیق کو فروغ دیا۔

प्रश्न 5. निम्नलिखित میں سے کسی ایک کا جواب دیجیے۔

  1. اردو شاعری میں ترقی پسند تحریک کے اثرات کا جائزہ لیجیے۔
  2. اردو ادب میں جدیدیت کے رجحانات پر روشنی ڈالیے۔

उत्तर (i): ترقی پسند تحریک نے اردو شاعری کو نئے موضوعات دیے۔ اس تحریک نے سماجی ناانصافی، غربت، اور استحصال کو موضوع بنایا۔ فیض احمد فیض، علی سردار جعفری، اور مجروح سلطانپوری جیسے شعرا نے ترقی پسند شاعری کو فروغ دیا۔ اس تحریک نے شاعری کو عوامی بنایا اور اسے محض عشق و محبت سے نکال کر سماجی مسائل کی طرف موڑ دیا۔

उत्तर (ii): جدیدیت نے اردو ادب میں روایتی اقدار سے ہٹ کر نئے تجربات کو فروغ دیا۔ اس میں علامت نگاری، تجرید، اور نفسیاتی تجزیہ پر زور دیا گیا۔ میراجی، ن م راشد، اور انتظار حسین جیسے ادیبوں نے جدیدیت کو فروغ دیا۔ جدیدیت نے اردو ادب کو عالمی ادب سے جوڑا اور نئے اسلوب اور موضوعات متعارف کرائے۔

— Page 2 of 7 —

Urdu Sahitya (SS-22-2016) – Page 3

5. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔

  • (i) اردو غزل کے ارتقا پر روشنی ڈالیں۔
  • (ii) اردو ناول کے ارتقا پر روشنی ڈالیں۔
  • (iii) اردو افسانے کے ارتقا پر روشنی ڈالیں۔
  • (iv) اردو ڈرامے کے ارتقا پر روشنی ڈالیں۔

جواب (i): اردو غزل کا آغاز دکن میں ہوا۔ ولی دکنی کو اردو غزل کا باوا آدم کہا جاتا ہے۔ بعد میں میر تقی میر، غالب، مومن، داغ اور حسرت موہانی جیسے شعرا نے غزل کو عروج بخشا۔ غزل میں عشق و محبت، تصوف، فلسفہ اور سماجی مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔

6. مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔

  • (i) اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کے اثرات کا جائزہ لیں۔
  • (ii) اردو ادب میں جدیدیت کے رجحانات پر روشنی ڈالیں۔

جواب (i): ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو حقیقت نگاری، سماجی شعور اور انقلابی جذبے سے متاثر کیا۔ اس تحریک نے غربت، استحصال اور طبقاتی کشمکش جیسے موضوعات کو ادب میں جگہ دی۔ سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری اور عصمت چغتائی اس تحریک کے اہم نمائندے ہیں۔

— Page 3 of 7 —

Page content could not be transcribed.

Urdu Sahitya (SS-22-2016) – Page 5

प्रश्न 3. निम्नलिखित में से किन्हीं तीन प्रश्नों के उत्तर दीजिए :

  1. “उस ओर” कविता के रचयिता का नाम लिखिए।
  2. “४०” (चालीस) कहानी के लेखक कौन हैं?
  3. “बेटे” (बेटे) कविता के रचयिता का नाम लिखिए।
  4. “लुसैत” (लुसैत) कहानी के लेखक कौन हैं?
  5. “फेंड” (फेंड) कविता के रचयिता का नाम लिखिए।

नोट: प्रश्न क्रमांक 6 से 10 तक के उत्तर दीजिए।

प्रश्न 6. निम्नलिखित में से किन्हीं तीन प्रश्नों के उत्तर दीजिए :

  1. “बेटे” कविता के रचयिता का नाम लिखिए।
  2. “लुसैत” कहानी के लेखक कौन हैं?
  3. “फेंड” कविता के रचयिता का नाम लिखिए।
  4. “४०” (चालीस) कहानी के लेखक कौन हैं?
  5. “उस ओर” कविता के रचयिता का नाम लिखिए।

नोट: प्रश्न क्रमांक 6 से 10 तक के उत्तर दीजिए।

— पृष्ठ 5 — [Turn over] | 49 SS-22-Urdu Sah.

Urdu Sahitya (SS-22) – 2016

प्रश्न 6

निम्नलिखित में से किन्हीं दो प्रश्नों के उत्तर दीजिए:

  1. उर्दू साहित्य में 'दास्तान' विधा की विशेषताओं का उल्लेख कीजिए।
  2. मीर तकी मीर की शायरी की प्रमुख विशेषताएँ बताइए।
  3. उर्दू गद्य के विकास में सर सैयद अहमद खाँ के योगदान पर प्रकाश डालिए।

उत्तर (प्रश्न 6 के लिए नमूना उत्तर – किन्हीं दो का चयन)

(i) दास्तान विधा की विशेषताएँ: दास्तान उर्दू की एक प्राचीन कथा विधा है। इसमें काल्पनिक, अलौकिक और रोमांचक घटनाओं का वर्णन होता है। पात्र अक्सर बहादुर, जादूगर या परियाँ होते हैं। भाषा सरल और प्रवाहपूर्ण होती है। प्रमुख दास्तानों में 'दास्तान-ए-अमीर हम्ज़ा' शामिल है।

(ii) मीर तकी मीर की शायरी की विशेषताएँ: मीर उर्दू शायरी के महानतम शायरों में से एक हैं। उनकी शायरी में प्रेम, दर्द, फ़िराक़ और जीवन की नश्वरता का गहरा चित्रण मिलता है। भाषा सादा लेकिन प्रभावशाली है। उन्होंने ग़ज़ल को नई ऊँचाई दी।

(iii) सर सैयद अहमद खाँ का योगदान: सर सैयद ने उर्दू गद्य को सरल और व्यावहारिक बनाया। उन्होंने 'तहज़ीब-उल-अख़लाक' जैसे पत्र निकाले और अलीगढ़ आंदोलन के ज़रिए शिक्षा का प्रसार किया। उनके लेखों ने उर्दू गद्य को नई दिशा दी।

प्रश्न 7

निम्नलिखित में से किन्हीं दो प्रश्नों के उत्तर दीजिए:

  1. उर्दू नाटक के विकास पर एक संक्षिप्त टिप्पणी लिखिए।
  2. अल्लामा इकबाल की शायरी में 'खुदी' की अवधारणा को समझाइए।
  3. उर्दू साहित्य में 'अफ़साना' विधा की विशेषताएँ बताइए।

उत्तर (प्रश्न 7 के लिए नमूना उत्तर – किन्हीं दो का चयन)

(i) उर्दू नाटक का विकास: उर्दू नाटक की शुरुआत 19वीं सदी में हुई। अमानत लखनवी का 'इंदर सभा' पहला महत्वपूर्ण नाटक माना जाता है। बाद में आगा हश्र कश्मीरी, इम्तियाज़ अली ताज आदि ने नाटक को समृद्ध किया। आधुनिक काल में सुरेंद्र वर्मा और अन्य ने प्रयोग किए।

(ii) इकबाल की 'खुदी' की अवधारणा: इकबाल के अनुसार 'खुदी' का अर्थ आत्म-सम्मान, आत्म-निर्भरता और आत्म-साक्षात्कार है। उन्होंने 'खुदी को कर बुलंद इतना' कहकर मनुष्य को ऊँचा उठने की प्रेरणा दी। यह उनकी शायरी का केंद्रीय विचार है।

(iii) अफ़साना विधा की विशेषताएँ: अफ़साना उर्दू की एक छोटी कहानी विधा है। इसमें जीवन के किसी एक पहलू या घटना पर केंद्रित कथा होती है। पात्र सीमित होते हैं और भाषा संक्षिप्त तथा प्रभावशाली होती है। प्रेमचंद, मंटो, बेदी आदि इसके प्रमुख लेखक हैं।

प्रश्न 8

निम्नलिखित में से किन्हीं दो प्रश्नों के उत्तर दीजिए:

  1. उर्दू साहित्य में 'मर्सिया' विधा का महत्व बताइए।
  2. मिर्ज़ा ग़ालिब की शायरी की प्रमुख विशेषताओं का वर्णन कीजिए।
  3. उर्दू साहित्य के इतिहास में 'दिल्ली स्कूल' के योगदान पर प्रकाश डालिए।

उत्तर (प्रश्न 8 के लिए नमूना उत्तर – किन्हीं दो का चयन)

(i) मर्सिया विधा का महत्व: मर्सिया शोकगीत है, जो मुख्यतः कर्बला की घटनाओं पर आधारित है। मीर अनीस और दबीर इसके प्रमुख शायर हैं। इसमें वीरता, शोक और धार्मिक भावनाओं का मिश्रण होता है। यह उर्दू साहित्य की एक महत्वपूर्ण विधा है।

(ii) मिर्ज़ा ग़ालिब की शायरी की विशेषताएँ: ग़ालिब की शायरी में दर्शन, प्रेम, जीवन की जटिलताओं और रहस्यवाद का गहरा चित्रण है। उनकी भाषा फ़ारसी-उर्दू मिश्रित है और उन्होंने नए विषयों को शायरी में शामिल किया। उनकी ग़ज़लें अत्यंत लोकप्रिय हैं।

(iii) दिल्ली स्कूल का योगदान: दिल्ली स्कूल ने उर्दू साहित्य को एक नई दिशा दी। इसमें मीर, सौदा, दर्द जैसे शायर शामिल थे। इस स्कूल ने शायरी को सादगी और गहराई प्रदान की। बाद में ग़ालिब ने इसे और समृद्ध किया।

— पृष्ठ 6 —

Page content could not be transcribed.