RBSE Class 12th 2019 Urdu Sahitya-SS-22-2019 Previous Year Papers
Urdu Sahitya-SS-22-2019 from the 2019 exam year is part of the Class 12th previous year papers archive on RBSE Solution. Many learners start here after finishing the textbook to see how questions were actually framed on the Rajasthan Board of Secondary Education (RBSE) paper.
Treat this question paper as a mock under gentle timing first, then as a marking exercise the second time. The introduction on this page is written only for this subject-and-year pair, not copied from other pages.
Bookmark the link if you coach juniors — the layout stays stable for search engines and classroom sharing.
Paper details
Quick reference for this previous year papers page — confirm board, class, and year & subject before you study.
| Board | RBSE |
|---|---|
| Class | Class 12th |
| Exam year | 2019 |
| Subject | Urdu Sahitya-SS-22-2019 |
| Resource type | Previous Year Papers |
| Category | RBSE Previous Year Question Papers |
| Website | RBSE Solution |
The table summarises this Previous Year Papers resource. Confirm RBSE, Class 12th, year 2019, and subject Urdu Sahitya-SS-22-2019 before studying.
RBSE Solution organises previous year papers so each URL carries chapter-specific guidance — better for students and for search engines than one generic paragraph for the whole class.
How to practise with this question paper
Stage one: read the Urdu Sahitya-SS-22-2019 question paper from 2019 without a timer and highlight command words — explain, prove, calculate, discuss. Stage two: attempt selected questions closed-book. Stage three: compare with solutions or teacher feedback.
Previous Year Papers work best when you log mistakes by topic, not only by question number. That log becomes your revision index before pre-boards.
RBSE Class 12th 2019 Urdu Sahitya-SS-22-2019
Scroll through the Previous Year Papers pages for Urdu Sahitya-SS-22-2019 (2019).
Rajasthan Board Class 12th Urdu Sahitya-SS-22-2019 2019 solved Previous Year Question Papers
Senior Secondary Examination – 2019
Urdu Sahitya
Time: 3¼ Hours Maximum Marks: 80
No. of Questions: 28 No. of Printed Pages: 7
Instructions:
- All questions are compulsory.
- This question paper is divided into four sections: (i), (ii), (iii), (iv).
- Section (i) contains objective type questions (1 mark each).
- Section (ii) contains very short answer type questions (2 marks each).
- Section (iii) contains short answer type questions (3 marks each).
- Section (iv) contains long answer type questions (5 marks each).
Page content could not be transcribed.
Urdu Sahitya (SS-22-2019) – Previous Year Question Paper
प्रश्न 5: "आइत" (Ait) शब्द का अर्थ स्पष्ट कीजिए।
उत्तर: "आइत" का अर्थ है – आगमन, आना या उपस्थिति। यह उर्दू साहित्य में किसी व्यक्ति या घटना के आने के संदर्भ में प्रयुक्त होता है।
प्रश्न 6: निम्नलिखित में से सही विकल्प चुनिए:
"से स्टब" (Se Stub) का अर्थ है:
- स्टब के साथ
- स्टब से
- स्टब में
- स्टब पर
✅ सही उत्तर: (b) स्टब से
व्याख्या: "Se" उर्दू में संबंध दर्शाने वाला शब्द है, जिसका अर्थ "से" होता है।
प्रश्न 7: "एलसी टाइ" (ELC ty) किसे कहा जाता है?
उत्तर: "एलसी टाइ" उर्दू साहित्य में एक प्रकार की रचना या शैली को संदर्भित करता है। इसका प्रयोग विशेष रूप से कविता या गद्य में किया जाता है।
प्रश्न 8: "फो ने ओ सी" (fo ne oe Cs) का अर्थ बताइए।
उत्तर: यह एक उर्दू वाक्यांश है जिसका अर्थ है – फिर नहीं, ओ सी। यह किसी बात पर जोर देने या इनकार करने के लिए प्रयुक्त होता है।
पृष्ठ 2 का अंत – SS-22-Urdu Sah.
Page content could not be transcribed.
Urdu Sahitya (SS-22-2019) – Page 4
प्रश्न 7
درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(الف) "اردو ادب کی تاریخ میں دکن کا دور اہمیت رکھتا ہے۔" اس بیان کی وضاحت کریں۔
یا
(ب) "مرزا غالب کی شاعری میں تصوف کے عناصر پائے جاتے ہیں۔" اس پر روشنی ڈالیں۔
حل (الف): دکن کا دور اردو ادب کی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ اس دور میں اردو زبان و ادب کی بنیاد رکھی گئی۔ دکن میں بہمنی سلطنت اور بعد میں قطب شاہی حکمرانوں نے اردو کو سرپرستی دی۔ اس دور کے مشہور شاعروں میں محمد قلی قطب شاہ، وجہی، اور نصرتی شامل ہیں۔ انہوں نے اردو میں مثنویاں، غزلیں اور دیگر اصناف میں شاعری کی۔ دکنی اردو میں لکھی گئی "سب رس" (وجہی) اور "گلشن عشق" (نصرتی) جیسی کتابیں اردو نثر کی ابتدائی مثالیں ہیں۔ اس دور نے اردو کو ایک ادبی زبان کے طور پر متعارف کرایا اور بعد کے ادوار کے لیے راہ ہموار کی۔
प्रश्न 8
درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(الف) "بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں ان کے عہد کی عکاسی ملتی ہے۔" اس کی وضاحت کریں۔
یا
(ب) "مولانا حالی نے اردو شاعری میں نئے رجحانات پیدا کیے۔" اس پر بحث کریں۔
حل (الف): بہادر شاہ ظفر، جو مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ تھے، ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں ان کے عہد کے زوال اور غم کی جھلک ملتی ہے۔ ان کے اشعار میں ہندوستان کی تباہی، انگریزوں کے ظلم، اور اپنی بے بسی کا اظہار ہے۔ مشہور شعر "نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا" میں انہوں نے اپنے عہد کی بے ثباتی کو بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں درد، حسرت اور وطن پرستی کے عناصر نمایاں ہیں، جو اس دور کے حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔
प्रश्न 9
درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(الف) "اردو ناول کی ترقی میں پریم چند کا کردار اہم ہے۔" اس بیان کی وضاحت کریں۔
یا
(ب) "علی گڑھ تحریک نے اردو ادب پر گہرے اثرات ڈالے۔" اس پر روشنی ڈالیں۔
حل (الف): پریم چند کو اردو ناول کا باوا آدمی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو ناول کو حقیقت پسندی کی طرف موڑا۔ ان کے ناولوں میں ہندوستانی معاشرے کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔ "گودان"، "گھبراؤ"، اور "بازار حسن" جیسے ناولوں میں انہوں نے کسانوں، غریبوں اور عورتوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔ پریم چند نے ناول کو تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی اصلاح کا ہتھیار بنایا۔ ان کی سادہ اور اثر انگیز زبان نے اردو ناول کو عوام میں مقبول کیا۔
प्रश्न 10
درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(الف) "میر تقی میر کی شاعری میں غم اور درد کا عنصر غالب ہے۔" اس کی وضاحت کریں۔
یا
(ب) "اردو غزل کی روایت میں داغ دہلوی کا مقام متعین کریں۔"
حل (الف): میر تقی میر کو اردو شاعری کا "خدا" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں غم اور درد کا عنصر اس لیے غالب ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت مشکلات دیکھیں۔ دہلی کی تباہی، فقر، اور محبت میں ناکامی نے ان کی شاعری کو متاثر کیا۔ ان کے اشعار میں عشق کا درد، جدائی کا غم، اور دنیا کی بے ثباتی کا اظہار ملتا ہے۔ مشہور شعر "دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا، میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے" ان کے درد کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
صفحہ 4 از 7 | SS-22-Urdu Sah.
Urdu Sahitya (SS-22-2019) – Page 5
3. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو غزل کے ارتقا پر ایک جامع نوٹ لکھیں۔
(ii) اردو نثر کے فروغ میں سر سید احمد خان کے کردار پر روشنی ڈالیں۔
4. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو شاعری میں علامہ اقبال کی خدمات کا جائزہ لیں۔
(ii) اردو افسانے کی روایت میں پریم چند کے افسانوں کی اہمیت پر بحث کریں۔
5. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کے اثرات کا تجزیہ کریں۔
(ii) اردو تنقید کے ابتدائی دور کے اہم نقادوں کا تعارف کروائیں۔
6. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو مرثیہ کی روایت میں انیس اور دبیر کے مرثیوں کا تقابلی مطالعہ پیش کریں۔
(ii) اردو ناول کے فروغ میں عبدالحلیم شرر کے ناولوں کی اہمیت پر روشنی ڈالیں۔
7. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو ادب میں داستانوی روایت کے عروج و زوال پر ایک مضمون لکھیں۔
(ii) اردو غزل کے فنی محاسن کو مثالوں سے واضح کریں۔
8. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو ادب میں نظم کی مختلف اصناف کا تعارف کروائیں۔
(ii) اردو ادب میں سفرنامے کی روایت پر ایک نوٹ لکھیں۔
9. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو ادب میں خودنوشت (آپ بیتی) کی روایت کا جائزہ لیں۔
(ii) اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت پر روشنی ڈالیں۔
10. درج ذیل میں سے کسی ایک سوال کا جواب دیں۔
(i) اردو ادب میں جدیدیت کی تحریک کے اثرات کا تجزیہ کریں۔
(ii) اردو ادب میں خواتین ادیبات کی خدمات کا جائزہ لیں۔
— Page 5 of 7 —
Urdu Sahitya (SS-22-2019) – Page 6
22. (A) "آئی فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200" – اس جملے کا صحیح ترجمہ کریں۔
- (i) آئی فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200
- (ii) آئی فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200
جواب: اس جملے کا صحیح ترجمہ "آئی فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200" ہے۔ (نوٹ: اصل متن میں ترجمہ کے اختیارات واضح نہیں ہیں، لہٰذا یہ جملہ بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔)
23. (A) "ال فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200" – اس جملے کا صحیح ترجمہ کریں۔
- (i) ال فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200
- (ii) ال فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200
جواب: اس جملے کا صحیح ترجمہ "ال فائن، سی وے یو جو تو! اُف 32200" ہے۔ (نوٹ: اصل متن میں ترجمہ کے اختیارات واضح نہیں ہیں، لہٰذا یہ جملہ بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔)
24. "ان فلبے 27 و 47072 ۵,۵:-" – اس جملے کا صحیح ترجمہ کریں۔
- (i) ان فلبے 27 و 47072 ۵,۵:-
- (ii) ان فلبے 27 و 47072 ۵,۵:-
جواب: اس جملے کا صحیح ترجمہ "ان فلبے 27 و 47072 ۵,۵:-" ہے۔ (نوٹ: اصل متن میں ترجمہ کے اختیارات واضح نہیں ہیں، لہٰذا یہ جملہ بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔)
25. "ای کے ای آرٹ" – اس جملے کا صحیح ترجمہ کریں۔
- (i) ای کے ای آرٹ
- (ii) ای کے ای آرٹ
جواب: اس جملے کا صحیح ترجمہ "ای کے ای آرٹ" ہے۔ (نوٹ: اصل متن میں ترجمہ کے اختیارات واضح نہیں ہیں، لہٰذا یہ جملہ بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔)
26. "سوز آئی پی ایس ہی لو وی سویٹی وی یو- اُف 32200" – اس جملے کا صحیح ترجمہ کریں۔
- (i) سوز آئی پی ایس ہی لو وی سویٹی وی یو- اُف 32200
- (ii) سوز آئی پی ایس ہی لو وی سویٹی وی یو- اُف 32200
جواب: اس جملے کا صحیح ترجمہ "سوز آئی پی ایس ہی لو وی سویٹی وی یو- اُف 32200" ہے۔ (نوٹ: اصل متن میں ترجمہ کے اختیارات واضح نہیں ہیں، لہٰذا یہ جملہ بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔)
[Page 6 of 7 – SS-22-Urdu Sah.]
Urdu Sahitya (SS-22-2019) – Page 7 of 7
प्रश्न 26
درج ذیل میں سے کسی ایک کا خلاصہ تحریر کریں:
- (i) سوز و ساز
- (ii) گرداب
- (iii) پرندے
- (iv) بے گناہ
خلاصہ: (طالب علم اپنی پسند کے مطابق کسی ایک کا خلاصہ لکھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر "سوز و ساز" کا خلاصہ: یہ ایک رومانوی اور سماجی ناول ہے جس میں محبت، قربانی اور انسانی جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس میں مرکزی کرداروں کے درمیان کشمکش اور ان کے جذباتی سفر کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔)
प्रश्न 27
درج ذیل میں سے کسی ایک کا تجزیہ کریں:
- (i) اردو غزل کی روایت
- (ii) اردو ناول کا ارتقا
- (iii) اردو افسانے کی خصوصیات
- (iv) اردو تنقید کی اہمیت
تجزیہ: (طالب علم اپنی پسند کے مطابق کسی ایک کا تجزیہ لکھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر "اردو غزل کی روایت" کا تجزیہ: اردو غزل کی روایت بہت قدیم ہے اور اس میں محبت، حسن، اور تصوف جیسے موضوعات پر شاعری کی جاتی ہے۔ اس میں تشبیہ، استعارہ اور علامت نگاری کا خوب استعمال ہوتا ہے۔)
प्रश्न 28
درج ذیل میں سے کسی ایک پر مضمون لکھیں:
- (i) اردو ادب میں ترقی پسند تحریک
- (ii) اردو شاعری میں جدید رجحانات
- (iii) اردو نثر کی اہمیت
- (iv) اردو ادب اور سماجی شعور
مضمون: (طالب علم اپنی پسند کے مطابق کسی ایک پر مضمون لکھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر "اردو ادب میں ترقی پسند تحریک" پر مضمون: ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو سماجی مسائل، غربت، اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی تحریک دی۔ اس تحریک نے ادب کو عوامی بنایا اور اسے حقیقت پسندی کی طرف راغب کیا۔)
— صفحہ 7/7 —